Tuesday, 16 March 2021

یہ چپکے چپکے نہ تھمنے والی ہنسی تو دیکھو

 یہ چپکے چپکے نہ تھمنے والی ہنسی تو دیکھو

وہ ساتھ ہے تو ذرا ہماری خوشی تو دیکھو

بہت حسیں رات ہے مگر تم تو سو رہے ہو

نکل کے کمرے سے اک نظر چاندنی تو دیکھو

جگہ جگہ سیل کے یہ دھبے یہ سرد بستر

ہمارے کمرے سے دھوپ کی بے رخی تو دیکھو

دمک رہا ہوں ابھی تلک اس کے دھیان سے میں

بجھے ہوئے اک خیال کی روشنی تو دیکھو

یہ آخری وقت اور یہ بے حسی جہاں کی

ارے مِرا سرد ہاتھ چھو کر کوئی تو دیکھو

ابھی بہت رنگ ہیں جو تم نے نہیں چھوئے ہیں

کبھی یہاں آ کے گاؤں کی زندگی تو دیکھو


شارق کیفی

No comments:

Post a Comment