قطعات کشمیری لال ذاکر
درد کا جام لے کے جیتے ہیں
ضبط سے کام لے کے جیتے ہیں
لوگ جیتے ہیں سو بہانوں سے
ہم تِرا نام لے کے جیتے ہیں
کاوشِ صبح و شام باقی ہے
ایک دردِ مدام باقی ہے
سجدے کرتا ہوں اٹھ کے پچھلے پہر
عشق کا احترام باقی ہے
دل جلوں کو ستانے آئے ہیں
غم زدوں کو رُلانے آئے ہیں
اف، یہ بے درد شام کے سائے
حسرتوں کو جگانے آئے ہیں
اتنی تلخ فضا میں بھی ہم زندہ ہیں
اپنے درد کے سورج سے تابندہ ہیں
ڈھلتی رات کے تارے ہیں ہم صحرا میں
سچ پوچھو تو خود سے بھی شرمندہ ہیں
کشمیری لال ذاکر
No comments:
Post a Comment