جھانکا صدف صدف کوئی گوہر نہیں مِلا
نابینا آئینے⌗ مِلے جوہر نہیں ملا
پیراک شیر و شہد کی نہروں میں تھے مگن
پُر شور پانیوں کو شناور نہیں ملا
لہروں کی طرح بڑھتے رہے آدمی تمام
لیکن کسی بدن پہ کوئی سَر نہیں ملا
سب رنگ موسموں کے بھنور میں بِچھڑ گئے
مٹی کو خوشبوؤں کا پیمبر نہیں ملا
پیوست تیر آنکھ میں ہیں انتظار کے
دنیا گزر گئی، کوئی رہبر نہیں ملا
جس کے لہو میں زہرِ خودآرائی بھی نہ ہو
ایسا ابھی تلک تو سخن ور نہیں ملا
باقر نقوی
No comments:
Post a Comment