Monday, 22 March 2021

لگا کے آگ بجھانے کی بات کرتے ہو

 لگا کے آگ بجھانے کی بات کرتے ہو

پھپھولے دل میں سجانے کی بات کرتے ہو

نہیں سمجھتے مِری حالتِ درُوں کو تم

فقط جو کرتے بہانے کی بات کرتے ہو

سناؤں میں جو کبھی حال اپنی الفت کا

ثبوت مجھ سے دکھانے کی بات کرتے ہو

گزار کر میں یہاں آیا ہوں شبِ ظلمت

کرم نہ کر کے جلانے کی بات کرتے ہو

جو پوچھتا ہوں کبھی بے رُخی کی میں عِلت

بنا کے بات بنانے کی بات کرتے ہو

کبھی سِتم پہ جو بھرتا ہوں آہ تب بھی تو

مِرے لہو میں نہانے کی بات کرتے ہو

تِرے حضور میں آیا جو آہنِؔ بے بس

پنہا کے بیڑی نہ جانے کی بات کرتے ہو


اخلاق احمد آہن

No comments:

Post a Comment