Thursday, 11 March 2021

آگ کیا سرد ہوئی برف کو پانی کر کے

 آگ کیا سرد ہوئی برف کو پانی کر کے

ہم بھی دریا ہوئے محسوس روانی کر کے

پوچھئے کس سے کہ ویران ہوئے گھر کیسے

ہر کوئی خوش ہے یہاں نقل مکانی کر کے

ان اشاروں کی کنایوں کی حقیقت معلوم

ہم نے الفاظ کو دیکھا تھا معانی کر کے

اک نئے دن کی شروعات ہوئی جاتی ہے

قافلو!! آگے بڑھو ختم کہانی کر کے

لوگ رکھتے ہیں زراعت سے زمینیں خوشرنگ

ہم بھی دیکھیں کسی پوشاک کو دھانی کر کے

قدر و قیمت میں اضافے کی طلب تھی جن کو

وہی مسرور ہیں اشیاء کی گرانی کر کے

یوں ہی کرتے رہے جِدت کا گِلہ تو راحت

ہر کسی چیز کو رکھ دو گے پرانی کر کے


راحت حسن

No comments:

Post a Comment