آگ کیا سرد ہوئی برف کو پانی کر کے
ہم بھی دریا ہوئے محسوس روانی کر کے
پوچھئے کس سے کہ ویران ہوئے گھر کیسے
ہر کوئی خوش ہے یہاں نقل مکانی کر کے
ان اشاروں کی کنایوں کی حقیقت معلوم
ہم نے الفاظ کو دیکھا تھا معانی کر کے
اک نئے دن کی شروعات ہوئی جاتی ہے
قافلو!! آگے بڑھو ختم کہانی کر کے
لوگ رکھتے ہیں زراعت سے زمینیں خوشرنگ
ہم بھی دیکھیں کسی پوشاک کو دھانی کر کے
قدر و قیمت میں اضافے کی طلب تھی جن کو
وہی مسرور ہیں اشیاء کی گرانی کر کے
یوں ہی کرتے رہے جِدت کا گِلہ تو راحت
ہر کسی چیز کو رکھ دو گے پرانی کر کے
راحت حسن
No comments:
Post a Comment