تُجھ کو لایا گیا ہے مصرعے میں
رات خُوشبو رہے گی کمرے میں
سوچ میں کس قدر ہوں رنجیدہ
سوچ تُو کس قدر ہے خطرے میں
اک وہی پَل تھا پیار کرنے کا
تُو نے ضائع کیا جو نخرے میں
لوگ خُود کو تلاش کرتے رہے
تم کہاں گُم تھے پچھلے عرصے میں
میں اُداسی کا اک جزیرہ ہوں
مجھ کو لایا نہ جائے نقشے میں
مجھ کو تقریر یاد تھی اُس کی
میں نے شرکت نہیں کی جلسے میں
آنکھ والے نہیں رہے عطاس
ورنہ کیا کچھ نہیں تھا ذرے میں
اعطاس احمد
No comments:
Post a Comment