ساتھ دینے کا وعدہ کیا ہے، جانِ جاں اپنا وعدہ نبھاؤ
یوں نہ چھوڑو مجھے راستے میں، دو قدم تو مِرے ساتھ آؤ
کچھ تو سوچو مسلمان ہو تم، کافروں کو نہ گھر میں بٹھاؤ
لوٹ لیں گے یہ ایماں ہمارا، اپنے چہرے سے گیسو ہٹاؤ
میری تربت پہ کیوں رو رہے ہو، نیند آئی ہے مشکل سے مجھ کو
قبر میں چین سے سو رہا ہوں، چھینٹے دے کر نہ مجھ کو جگاؤ
چارہ گر میں ہوں بیمارِ فرقت، کیوں اٹھاتے ہو بیکار زحمت
کرنا چاہو جو میرا مداوا، ڈھونڈ کر میرے دلبر کو لاؤ
جب وہ دیکھیں گے میت تمہاری، اے فنا! ان کو افسوس ہو گا
ہو جو ممکن تو اپنے خدا سے تھوڑی سی زندگی مانگ لاؤ
فنا بلند شہری
No comments:
Post a Comment