Thursday, 25 March 2021

کب دل کے آئنے میں وہ منظر نہیں رہا

کب دل کے آئینے میں وہ منظر نہیں رہا

آنکھوں کے سامنے جو کہ پل بھر نہیں رہا

پیروں تلے زمین نہیں تھی تو جی لیے

لیکن اب آسمان بھی سر پر نہیں رہا

تیرے خیال میں کبھی اس طرح کھو گئے

تیرا خیال بھی ہمیں اکثر نہیں رہا

وہ قحط سنگ ہے سر ساحل کہ الاماں

پانی میں پھینکنے کو بھی پتھر نہیں رہا

آگاہ کیا ہوئے ہیں سرابوں سے ہم جمال

سطح زمیں پہ کوئی سمندر نہیں رہا


جمال احسانی

No comments:

Post a Comment