آؤ کر لیں گنہ، ثواب کے نام
آج کی شام اس گلاب کے نام
رات کم بخت اس شراب کے نام
صبح چھوڑی تھی جو حساب کے نام
تم نے پوچھا یہ پھول و شبنم سے
کون رکھتا ہے رنگ و آب کے نام
دکھ ملے ہیں، خوشی کے دھوکے میں
پھر جزا بھی ملی، عذاب کے نام
خواب میں نے تمہارے نام کئے
اور یہ آنکھیں تمہارے خواب کے نام
زندگی!! اب تِرے یہ گھن چکر
ہم لگائیں گے پیچ و تاب کے نام
اس نے پوچھا کہ؛ انتسابِ کتاب
میں نے جھٹ کہہ دیا جناب کے نام
نذر کرتے ہیں جان و دل ثانی
یہ سفر اب سے ہمرکاب کے نام
وجیہ ثانی
No comments:
Post a Comment