Tuesday, 9 March 2021

ایک مدت سے یہاں ٹھہرا ہوا پانی ہے

 ایک مدت سے یہاں ٹھہرا ہوا پانی ہے

دشت تنہائی ہے اور آنکھ میں ویرانی ہے

دیکھو خاموش سی جھیلوں کے کنارے اب بھی

سوگ میں لپٹے درختوں کی فراوانی ہے

آئینہ دیکھنے کی تاب کہاں تھی مجھ میں

صاف لکھی تھی جو چہرے پہ پشیمانی ہے

دشت وحشت میں چراغوں کو جلاؤں کیسے

ان چراغوں سے ہواؤں کو پریشانی ہے

سایۂ ابرِ توجہ کی خبر کیا ہوتی

زندگی میں نے تو صحراؤں سے پہچانی ہے

اپنے ماضی کو مجھے دفن بھی خود کرنا ہے

یہ قیامت بھی دل و جاں پہ ابھی ڈھانی ہے

اب کے چمکا ہے ستارا جو فرحؔ بخت کا ہے

تِرے اطراف اسی کی ہے جو تابانی ہے


فرح اقبال

No comments:

Post a Comment