کمزور غریبوں کی ناؤ جب گرمِ سفر ہو جاتی ہے
طوفان پریشاں پھرتے ہیں ہر گھاٹ خبر ہو جاتی ہے
بچپن کے تو فرضی سودوں میں ہر ٹھیکری زر ہو جاتی ہے
پھر ہیچ گہر ہو جاتے ہیں جب پختہ نظر ہو جاتی ہے
جیسے کہ لچکتی شاخوں سے اک پیڑ کے پیچھے چمکے چاند
یوں ان کی تھرکتی زلفوں سے بے پردہ نظر ہو جاتی ہے
اللہ کے بندو!! سوچو تو، جو تم کو بہت کچھ دیتا ہے
مفلس بھی اسی کے بندے ہیں ان کی بھی بسر ہو جاتی ہے
جب سانس کے چلتے دھارے پر بہتی ہے محبت کی کشتی
ہر سانس جھکولے دیتا ہے ہر موج بھنور ہو جاتی ہے
شرقی امروہوی
No comments:
Post a Comment