دُور اس دنیا سے ہو کوئی جہاں میرے لیے
اس جہاں میں تو نہیں امن و اماں میرے لیے
اک جہاں جس میں نہ ہو فکر و تردد کا ہجوم
اک جہاں جس میں نہ ہو شو ر و فغاں میرے لیے
اک جہاں جس میں نہ ہو کچھ ما و تُو کا امتیاز
اک جہاں آزادِ قیدِ این و آں میرے لیے
اک جہاں جس میں نہ ہو علم و خرد کی دار و گیر
ہو نہ جس میں کاوشِ سودوزیاں میرے لیے
اک جہاں جس میں نہ ہو بُغض و عداوت کا وجود
اور محبت ہی محبت ہو جہاں میرے لیے
اک جہاں جس میں مجھے امن و فراغت ہو نصیب
زندگی جس میں نہ ہو بارِ گراں میرے لیے
اک جہاں جس میں مِرا قول و عمل ہو معتبر
ہر قدم پر ہوں نہ جس میں امتحاں میرے لیے
بے ریائی ہو جہاں کے رہنے والوں کا شعار
اور محبت میں صداقت ہو جہاں میرے لیے
ظاہر و باطن جہاں کے بسنے والوں کا ہو ایک
ہوں نہ خنجر آستینوں میں نہاں میرے لیے
زندگانی ہو جہاں اک خواب شیریں کے مثال
ہر نفس جس کا ہو عمرِ جاوداں میرے لیے
جس کا ہر ذرہ ہو اک دنیا ئے ناپیدا کنار
جس کا ہر قطرہ ہو بحرِ بے کراں میرے لیے
جلیل قدوائی
No comments:
Post a Comment