پربت تِرے پہلو میں اگر کھائی نہیں ہے
کاہے کی بلندی جہاں گہرائی نہیں ہے
اس واسطے بھی روشنی ہے باعث وحشت
آنکھوں کی چراغوں سے شناسائی نہیں ہے
ہوتا نہیں اب کوئی وہاں اس لیے رسوا
کوچے میں تِرے کوئی تماشائی نہیں ہے
حضرت جو رواداری نظر آپ میں آئی
وہ آپ کے بچوں میں نظر آئی نہیں ہے
لوگوں نے تو اس میں بھی کئی نقص نکالے
تصویر جو میں نے ابھی بنوائی نہیں ہے
خود بانٹ کے آئیں گے وہاں اپنی صدا ہم
جس سمت ہواؤں نے یہ پہنچائی نہیں ہے
ویسے تو ہر اک شخص کو ہوتی ہے محبت
اور سب ہی یہ کہتے ہیں کہ دانائی نہیں ہے
دنیا سے الگ ہو کے حسن ہم نے کئی بار
دیکھا ہے کسی کام کی تنہائی نہیں ہے
احتشام حسن
No comments:
Post a Comment