Wednesday, 17 March 2021

دشت طلب میں کھو گئے رستوں میں رہ گئے

 دشتِ طلب میں کھو گئے، رستوں میں رہ گئے

دریا چلے تھے دل سے جو آنکھوں میں رہ گئے

اک وقت تھا جو کھو گیا ماضی میں اب کہیں

کچھ لوگ تھے جو اب مِری باتوں میں رہ گئے

چہرے ہیں کچھ جو سوچ سے جاتے نہیں کبھی

کچھ عکس قید آئینہ خانوں میں رہ گئے

کچھ زخم ہیں کہ وقت بھی بھرتا نہیں جنہیں

کجھ درد ہیں کہ جم کے جو سینوں میں رہ گئے

کچھ خواہشیں ہیں جو کبھی پوری نہیں ہوئیں

کچھ خواب ہیں جو خواب تھے، خوابوں میں رہ گئے

کچھ پیکرِ ضیا تھے مِری رات کا نصیب

جو کہکشاں میں، چاند، ستاروں میں رہ گئے

صحرا میں ہم نے باغ اُگانا ہی تھے نعیم

شہروں میں اب گلاب تو گملوں میں رہ گئے


نعیم جاوید

No comments:

Post a Comment