Wednesday, 17 March 2021

کب یہ مرے حریف کے گوشہ نشین ہیں

 کب یہ مِرے حریف کے گوشہ نشین ہیں

میرے سبھی عزیز تہِ آستین ہیں

مدت سے تُو ملا، نہ کسی اور کا ہُوا

ہم مستقل تناؤ کے کب سے مکین ہیں

کہتے ہیں ہر کسی سے کہ فرصت نہیں مگر

ہم لوگ کائنات میں فارغ ترین ہیں

ممکن نہیں کہ ساتھ نبھائیں تمام عمر

ممکن بھی کس طرح ہو کہ دونوں ذہین ہیں

میں ان دنوں بہت سے مسائل میں ہوں گھِرا

تُو نے بچھڑنا ہے تو یہ دن بہترین ہیں

پربت پہ اس کے ساتھ میں پھرتا ہوں اس طرح

جیسے کسی رومانوی مووی کے سین ہیں

اپنی نظر کی حد میں نہیں آ سکے جو لوگ

شاید وہ اس جہان سے باہر مکین ہیں

اس بات پر تمام ہے تعریفِ آدمی

احساس گر نہ ہو تو بشر بھی مشین ہیں


زوہیر عباس

No comments:

Post a Comment