Wednesday, 17 March 2021

تو نے سرد ہواؤں کی زباں سیکھی ہے

چپ


تو نے سرد ہواؤں کی زباں سیکھی ہے

تیرے ٹھنڈے لمس سے دھڑکنیں یخ بستہ ہوئیں اور میں چپ ہوں

میں نے وقت صبح چڑیوں کی سریلی چہچہاہٹ کو سنا ہے

اور میرے ذہن کے ساگر میں نغمے بلبلے بن کر اٹھے ہیں

تیرے کڑوے بول سے ہر سو ہیں آوازوں کے لاشے

اور میں چپ ہوں

میں نے وہ معصوم پیارے گلبدن دیکھے ہیں

جن کے مرمریں جسموں میں پاکیزہ محبت کے نشیمن ہیں

ترے ان کھردرے ہاتھوں نے یہ سارے نشیمن نوچ ڈالے

اور میں چپ ہوں

میں نے دیکھے ہیں وہ چہرے چاند جیسے غنچہ صورت

جن کی آنکھیں آئنہ ہیں آنے والے موسموں کا

تو نے ان آنکھوں میں بھی کانٹے چبھوئے

اور میں چپ ہوں

با کمال و با صفا وہ لوگ بھی دیکھے ہیں میں نے

جن کے ہونٹوں سے کھلے ہیں صدق و دانائی کے پھول

تو نے ان ہونٹوں کو گھولا زہر میں

اور میں چپ ہوں


اعجاز فاروقی

No comments:

Post a Comment