Friday, 26 March 2021

محبتوں کی یہ رت ہے تو استفادہ بھی

محبتوں کی یہ رُت ہے تو استفادہ بھی

لگاوٹیں بھی ہیں میری، میں شاہزادہ بھی

یہ ایک چال ہے ایسی کہ جس میں وہ خود ہی

ہے اک وزیر بھی اور خود ہی ایک پیادہ بھی

یہ تیرے بس کا نہیں ہے، اتار پھینک اسے

نہ کام آئے گا تیرے یہ خوش لبادہ بھی

خوشا نصیب کہ آئے تو دیکھنے اک پل

اب اس سے چاہیے کیا مجھ کو اور زیادہ بھی

تم اپنے ڈھنگ سے لکھتے ہو زندگی کی غزل

یہ ایک فن بھی ہے اور فن کا ہے اعادہ بھی

مِرے وجود میں شر بھی ہے اور خیر بھی صابر

میں ایک وقت میں شری بھی، خیر زادہ بھی


صابر ادیب

No comments:

Post a Comment