درد کیا ہے، اسے پتہ ہے کیا
وہ، محبت سے آشنا ہے کیا
اے نجومی، تجھے خبر بھی ہے
خود تِرے بخت میں لکھا ہے کیا
سب ہی دامن بچا کے چلتے ہیں
یہ جو افلاس ہے، بلا ہے کیا
کوئی ابنِ بخیل کیا جانے
جود کیا چیز ہے، سخا ہے کیا
کوئی سرطان کے مرض جیسا
یہ تعصب بھی، لا دوا ہے کیا
جبر کے اور بھی تدارک ہیں
صبر ہی ایک راستہ ہے کیا
یاد آئے امیرِ شہر کو ہم
کام کچھ ہم سے آ پڑا ہے کیا
مصلحت جیسے جانتا ہی نہیں
فطرتاً وہ بھی آئینہ ہے کیا
بے کلی، رت جگے، خلش، آہیں
عشق کا سب کِیا دھرا ہے کیا
اس کی خُو ہی نہیں وفا داور
رہنے والا وہ کوفہ کا ہے کیا
داور نوید
No comments:
Post a Comment