کورونا
پرندے کوچ کرتے جا رہے ہیں
ہمارے گھر اُجڑتے جا رہے ہیں
کوئی لکھے گا کیا نوحہ ہمارا
سبھی جاں سے گزرتے جا رہے ہیں
ہماری کہکشاؤں سے ستارے
بڑی تیزی سے جھڑتے جا رہے ہیں
ابھی تو روشنی پُھوٹی تھی گھر میں
ابھی سے سائے بڑھتے جا رہے ہیں
مکانی لا مکانی ہو گئی ہے
سبھی منظر بدلتے جا رہے ہیں
کسی نے صُور تو پُھونکا نہیں ہے
نگر پھر بھی اُجڑتے جا رہے ہیں
جمالِ دوستاں، ابرِ میسّر
یہ بادل اب سرکتے جا رہے ہیں
اوریا مقبول جان
No comments:
Post a Comment