Tuesday, 9 March 2021

عکس کیا دیدۂ تر میں دیکھا

 عکس کیا دیدۂ تر میں دیکھا

ہم نے دریا کو بھنور میں دیکھا

سرِ منزل کوئی منزل نہ ملی

اک سفر اور سفر میں دیکھا

نظر آیا کبھی بازار میں گھر

کبھی رستہ کوئی گھر میں دیکھا

سرخرو جنگ سے لوٹ آیا تھا

خوں میں لت پت جسے گھر میں دیکھا

جانے کب آ کے یہاں بیٹھے تھے

اپنا سایا بھی شجر میں دیکھا

اب بھی چپکا ہے مِری آنکھوں میں

جو دھواں شمعِ سحر میں دیکھا

آگ کس دیس لگی ہے اب کے

پھر دھواں اپنے نگر میں دیکھا

ایک ہی جست میں ہم نے ہمدم

فاصلہ دشت سے در میں دیکھا


ہمدم کاشمیری

No comments:

Post a Comment