Thursday, 25 March 2021

ہم باغ تمنا میں دن اپنے گزار آئے

 ہم باغِ تمنا میں دِن اپنے گزار آئے

آئے نہ بہار آخر شاید نہ بہار آئے

رنگ اُن کے تلوّن کا چھایا رہا محفل پر

کچھ سینہ فگار اٹھے کچھ سینہ فگار آئے

فطرت ہی محبت کی دنیا سے نرالی ہے

ہو درد سوا جتنا، اُتنا ہی قرار آئے

کیا حسنِ طبیعت ہے کیا عشق کی زینت ہے

دل مٹ کے قرار آئے رنگ اڑ کے نکھار آئے

در سے تِرے ٹکرایا اِک نعرۂ مستانہ

بے نام لیے تیرا ہم تجھ کو پُکار آئے

تصویر بنی دیکھی اک جانِِ تمنا کی

آنسو مِری آنکھوں میں کیا سلسلہ وار آئے

کچھ ان سے نہ کہنا ہی تھی فتح محبت کی

جیتی ہوئی بازی کو ہم جان کے ہار آئے

اس درجہ وہ پیارے ہیں کہتے ہی نہیں بنتا

کیا اور کہا جائے جب اور بھی پیار آئے

اس بزم میں ہم آخر پہنچے بھی تو کیا پایا

دل ہی کی دبی چوٹیں کچھ اور ابھار آئے


ارم لکھنوی

No comments:

Post a Comment