یہ دعا ہے کہ تجھے دیدۂ بیدار ملے
دلِ حساس ملے، جرأت اظہار ملے
راستے میں گو تِرے جبر کی دیوار رہے
سر پہ یا دُکھ کی چمکتی ہوئی تلوار رہے
صحنِ زنداں میں رہے تُو یا سرِ دار رہے
حق و انصاف کی لب پر تِرے گفتار رہے
دل تِرا بادۂ اخلاص سے سرشار رہے
تُو سدا حسنِ صداقت کا پرستار رہے
تیری گردن کوئی قوت کبھی خم کر نہ سکے
تُو وہ کر جائے زمانے میں جو ہم کر نہ سکے
خاور رضوی
No comments:
Post a Comment