Friday, 12 March 2021

تیری کم ظرفی پہ لاکھوں بار کا وارا ہوا

 تیری کم ظرفی پہ لاکھوں بار کا وارا ہوا

زہر لگتا ہے مجھے دل آج کل ہارا ہوا

جا لُغت میں عشق کا مطلب تو پہلے دیکھ تُو

تُو نے دیکھی جو حسیں صورت، اسے پیارا ہوا

ذہن و دل میں قافیوں کے بعد کوئی کب بسا

جس نے سیکھی شاعری وہ شخص ناکارہ ہوا

میں بھی شاید اب کسی کی زندگی کا رنگ ہوں

تُو بھی لگتا ہے کسی کے بخت کا تارہ ہوا

نیلی چُنری اوڑھ کے میں نیلگوں تھوڑی ہوئی

نفرتوں کے زہر کا مجھ پر اثر سارا ہوا

گھُل رہی ہیں حلق میں میرے جو یہ نمکینیاں

آنسوؤں کے ساتھ پانی جب ملا، کھارا ہوا

چُوم لوں گی پھر سے ماتھا ہے غلط فہمی تِری

لوٹ کے آیا جو تُو اس بار دُھتکارا ہوا


کومل جوئیہ

No comments:

Post a Comment