Thursday, 18 March 2021

ہم نہ وحشت کے مارے مرتے ہیں

 ہم نہ وحشت کے مارے مرتے ہیں

تیری دہشت کے مارے مرتے ہیں

مار مت بے مروتی سے انہیں

جو مروت کے مارے مرتے ہیں

شکوہ کیا کیجے شامِ غربت کا

اپنی شامت کے مارے مرتے ہیں

کیا رقیبوں کو ماریے، وہ آپ

سب رقابت کے مارے مرتے ہیں

یار سے دور ہیں، وطن سے جدا

اس مصیبت کے مارے مرتے ہیں

سیکڑوں اس سے ہیں گے ہم آغوش

لاکھوں حسرت کے مارے مرتے ہیں

کچھ ہماری نہ پوچھیے صاحب

ہم تو غیرت کے مارے مرتے ہیں

ہے عجب زیست منتظر ان کی

جو کہ الفت کے مارے مرتے ہیں


منتظر لکھنوی

No comments:

Post a Comment