Thursday, 18 March 2021

کیا کسی کی طلب نہیں ہوتی شاعری بے سبب نہیں ہوتی

 کیا کسی کی طلب نہیں ہوتی

شاعری بے سبب نہیں ہوتی

جانے کس دُھن میں بھاگے جاتے ہیں

جُستجو جی میں کب نہیں ہوتی

با ادب دُشمنی کو کیا روئیں

دوستی با ادب نہیں ہوتی

چاند اس وقت بھی تو ہوتا ہے

جب کسی گھر میں شب نہیں ہوتی

ہم نے دنیا میں کیا نہیں دیکھا

حشر کی فکر اب نہیں ہوتی

میکدے میں بھی کچھ نہ کچھ تو ہے

بھیڑ یوں ہی غضب نہیں ہوتی

کون سچا ہے، کون جھوٹا ہے

یہ جرح ہم سے اب نہیں ہوتی


دنیش ٹھاکر

No comments:

Post a Comment