Wednesday, 10 March 2021

ہر گل سے ہر خار سے الجھا رہتا ہے

 ہر گل سے ہر خار سے اُلجھا رہتا ہے

دل ہے اپنے یار سے الجھا رہتا ہے

پھول خفا رہتے ہیں اپنی شاخوں سے

در اپنی دیوار سے الجھا رہتا ہے

میری جوانی کا ساتھی مِرا آئینہ

چاندی کے ہر تار سے الجھا رہتا ہے

جانے میرا شاعر بیٹا کیوں اکثر

دادا کی تلوار سے الجھا رہتا ہے

لوگ تو آخر لوگ ہیں ان سے کیا شکوہ

عیسیٰ کیوں بیمار سے الجھا رہتا ہے

مُورت بنتی ٹوٹتی بنتی رہتی ہے

فن اپنے فن کار سے الجھا رہتا ہے


سعید احمد اختر

No comments:

Post a Comment