Wednesday, 10 March 2021

یادوں کے باغ سے وہ ہرا پن نہیں گیا

 یادوں کے باغ سے وہ ہرا پن نہیں گیا 

ساون کے دن چلے گئے ساون نہیں گیا 

ٹھہرا تھا اتفاق سے وہ دل میں ایک بار 

پھر چھوڑ کر کبھی یہ نشیمن نہیں گیا 

ہر گُل میں دیکھتا رُخ لیلیٰ وہ آنکھ سے 

افسوس قیس دشت سے گُلشن نہیں گیا 

رکھا نہیں مصورِ فطرت نے مؤقلم 

شہ پارہ بن رہا ہے ابھی بن نہیں گیا 

میں نے خوشی سے کی ہے یہ تنہائی اختیار 

مجھ پر لگا کے وہ کوئی قدغن نہیں گیا 

تھا وعدہ شام کا مگر آئے وہ رات کو 

میں بھی کواڑ کھولنے فوراً نہیں گیا 

دشمن کو میں نے پیار سے راضی کیا شعور 

اس کے مقابلے کے لیے تن نہیں گیا


انور شعور

No comments:

Post a Comment