گواہی
وہ سیڑھی جو مِرے دل سے
تمہارے دل کے گنبد پر اترتی ہے
شکستہ ہے
وہ کھڑکی جو تمہارے گھر میں کھُلتی ہے
مِری پہچان اور مکڑی کے جالوں سے اَٹی ہے
زنگ خوردہ ہے
گواہی دے نہیں سکتے، نہ دو
لیکن مِرا اک کام تو کر دو
مِری پہچان میں الجھے ہوئے مکڑی کے سب جالے
مجھے دے دو
کوئی تو ہو جو مجھ کو میرے ہونے کی گواہی دے
منصورہ احمد
No comments:
Post a Comment