Tuesday, 16 March 2021

وہ سیڑھی جو مرے دل سے تمہارے دل کے گنبد پر اترتی ہے

 گواہی


وہ سیڑھی جو مِرے دل سے

تمہارے دل کے گنبد پر اترتی ہے

شکستہ ہے

وہ کھڑکی جو تمہارے گھر میں کھُلتی ہے

مِری پہچان اور مکڑی کے جالوں سے اَٹی ہے

زنگ خوردہ ہے

گواہی دے نہیں سکتے، نہ دو

لیکن مِرا اک کام تو کر دو

مِری پہچان میں الجھے ہوئے مکڑی کے سب جالے

مجھے دے دو

کوئی تو ہو جو مجھ کو میرے ہونے کی گواہی دے


منصورہ احمد

No comments:

Post a Comment