Tuesday, 16 March 2021

اب تو تقلید کے زنداں سے نکلنے دو مجھے

اب تو تقلید کے زِنداں سے نکلنے دو مُجھے

وقت بدلا ہے تو تھوڑا سا بدلنے دو مجھے

میں کہاں اور کہاں وقت کے نمرُود کی آگ

اپنے ہی شعلۂ احساس میں جلنے دو مجھے

کس لیے آ کے کھڑی ہے مِرے آگے ظُلمت

میں تو سُورج ہوں نکلنا ہے نکلنے دو مجھے

چُھوٹ جائے نہ کہیں ہاتھ سے دامان وفا

کچھ تو اے گردش ایام! سنبھلنے دو مجھے

مجھ کو منظور نہیں غیر کا قالب ہرگز

اپنے ٹُوٹے ہوئے سانچے ہی میں ڈھلنے دو مجھے

خواب کی دُھند ہے کچھ دیر میں چھٹ جائے گی

سو کے اُٹھا ہوں ذرا آنکھ تو مَلنے دو مجھے

ہو گا عرفانِ حقیقت بھی کسی دن احمد

کوچۂ وہم و گُماں سے تو نکلنے دو مجھے


الطاف احمد اعظمی

No comments:

Post a Comment