Thursday, 4 March 2021

بس ایک بار ترا عکس جھلملایا تھا

 بس ایک بار تِرا عکس جھلملایا تھا

پھر اس کے بعد مِرا جسم تھا نہ سایہ تھا

شدید نیند کا غلبہ تھا کچھ پتہ نہ چلا

کہ اتنی رات گئے کون ملنے آیا تھا

خیال آتے ہی اک ٹیس سی ابھرتی ہے

ملال آج بھی ہے تیرا دل دکھایا تھا

مجھے پتہ تھا دریچے سے رات جھانکے گی

اسی خیال سے میں چاند لے کے آیا تھا

بدل گئے تھے مناظر پلک جھپکتے ہی

مِرا جنون بس اک بار رنگ لایا تھا

تم آ گئے ہو تو لگتا ہے آج سے پہلے

مِری حیات پہ اک بد دعا کا سایہ تھا


راشد انور

No comments:

Post a Comment