Thursday, 4 March 2021

پتے جھڑتے ہیں جب درختوں کے

 پتّے جھڑتے ہیں جب درختوں کے

یاد آتے ہیں دوست وقتوں کے

کارواں کے بنے ہیں وہ رہبر

جو کہ واقف نہیں ہیں رستوں کے

بادشاہی بھی کیا عجب شے ہے

تختے ہوتے ہیں پَل میں تختوں کے

مانگنا ہے تو اپنے رب سے مانگ

چھوڑ انداز بُت پرستوں کے

زخم دل کے نہ گِن سکو گے تم

سالوں، ماہوں کے اور ہفتوں کے

تیری یادیں ہیں یا کتابیں ہیں

یہ خزِینے ہیں دل کے بستوں کے

شعر کہہ دو کبھی خوشی کے بھی

چھوڑو بزمی یہ نغمے دشتوں کے


شبیر بزمی

No comments:

Post a Comment