Tuesday, 23 March 2021

سچ سمجھ کر ترے بیانوں کو

 سچ سمجھ کر تِرے بیانوں کو

ہاتھ چُھونے لگے ہیں کانوں کو

اپنے ایقان کی دراڑوں میں

آؤ بھرتے ہیں کچھ گُمانوں کو

ایک درویش اپنے کاسے میں

ڈال کر چل دیا زمانوں کو

ہاتھ رکھے رہے نکیلوں پر

لے گئے اونٹ ساربانوں کو

میں وہاں بِن بلائے جاتا ہوں

آپ سنتے رہیں اذانوں کو

ایک کھڑکی کھٹکتی رہتی ہے

اُس گلی کے سبھی مکانوں کو

پھر ملاقات ٹل گئی لیکن

شرم آنے لگی بہانوں کو

قہر پھُوٹے گا ہر بُنِ مُو سے

کاٹ دو گے اگر زبانوں کو


اسد رحمان

No comments:

Post a Comment