Sunday, 21 March 2021

کوئی حسیں منظر آنکھوں سے جب اوجھل ہو جائے گا

 کوئی حسیں منظر آنکھوں سے جب اوجھل ہو جائے گا

مجھ کو پاگل کہنے والا خود ہی پاگل ہو جائے گا

پلکوں پہ اس کی جلے بجھیں گے جگنو جب مِری یادوں کے

کمرے میں ہوں گی برساتیں، گھر جنگل ہو جائے گا

جس دن اس کی زلفیں اس کے شانوں پر کھل جائیں گی

اس دن شرم سے پانی پانی خود بادل ہو جائے گا

جب بھی وہ پاکیزہ دامن آ جائے گا ہاتھ مِرے

آنکھوں کا یہ میلا پانی گنگا جل ہو جائے گا

اس کی یادیں اس کی باتیں اس کی وفائیں اس کا پیار

کس کو خبر تھی جینا مشکل ایک اک پل ہو جائے گا

مت گھبرا اے پیاسے دریا!، سورج آنے والا ہے

برف پہاڑوں سے پگھلی تو جل ہی جل ہو جائے گا


طاہر فراز

No comments:

Post a Comment