Thursday, 11 March 2021

وہ چاند تھا بادلوں میں گم تھا

 وہ چاند تھا بادلوں میں گم تھا

وہ عکس تھا پانیوں میں گم تھا 

 دستک کی صدا تو آ رہی تھی

میں اپنے ہی واہموں میں گم تھا

چہرے پہ محبتیں سجی تھیں

دل اپنی ہی نفرتوں میں گم تھا

مٹی میں نمی کہاں سے آتی

پانی تو سمندروں میں گم تھا

دربار میں کرسیاں سجی تھیں

ہر شخص عقیدتوں میں گم تھا

اس عہد کا کیا شمار کیجے 

جو عہد کئی رتوں میں گم تھا 

انصاف کی بھیک کسے ملتی 

قانون شہادتوں میں گم تھا 

شیریں سے سجا تھا قصرِ خسرو

فرہاد محبتوں میں گم تھا 

منزل کا سراغ دینے والا

بے نام مسافتوں میں گم تھا 


اسرار زیدی

No comments:

Post a Comment