Thursday, 11 March 2021

عشق کب تھا وہ یار عورت تھی

 عشق کب تھا وہ یار عورت تھی

میرے سر پر سوار عورت تھی

جس پہ الزام دہر دیا تُو نے

وہ تہجد گزار عورت تھی

ماں کے مرنے کے بعد جانا ہے

کس قدر سایہ دار عورت تھی

گھومتا آ رہا ہے صدیوں سے 

آدمی کا مدار عورت تھی 

عشق میرے لیے رہا دریا 

اور دریا کے پار عورت تھی


آصف انجم

No comments:

Post a Comment