عشق کب تھا وہ یار عورت تھی
میرے سر پر سوار عورت تھی
جس پہ الزام دہر دیا تُو نے
وہ تہجد گزار عورت تھی
ماں کے مرنے کے بعد جانا ہے
کس قدر سایہ دار عورت تھی
گھومتا آ رہا ہے صدیوں سے
آدمی کا مدار عورت تھی
عشق میرے لیے رہا دریا
اور دریا کے پار عورت تھی
آصف انجم
No comments:
Post a Comment