Monday, 22 March 2021

جلتی بجھتی ہوئی شمعوں کا دھواں رہتا ہے

 جلتی بجھتی ہوئی شمعوں کا دھواں رہتا ہے

کچھ عجب دھند کے عالم میں مکاں رہتا ہے

خشک دریا ہے نہ دریا پہ ہے پہرہ، لیکن

ہر طرف پیاس کا خوں رنگ سماں رہتا ہے

اس بھرے شہر میں مشکل ہے تجسس اس کا

کس کو فرصت جو کہے کون کہاں رہتا ہے

بھولنا سہل نہیں وقت کی سنگینی کا

زخم بھرتا ہے مگر اس کا نشاں رہتا ہے

میری آنکھوں میں ہیں صد رنگ مناظر لیکن

کچھ ہے معدوم جو احساسِ زیاں رہتا ہے

نیند آتی ہے کہاں اجڑے مکاں میں شاہد

کوئی آسیب کا ہر رات گماں رہتا ہے


شاہد کلیم

No comments:

Post a Comment