Monday, 22 March 2021

ایک دھوکا ہے یہ شب رنگ سویرا کیا ہے

 ایک دھوکا ہے یہ شبرنگ سویرا کیا ہے

یہ اجالا ہے اجالا تو اندھیرا کیا ہے؟

تُو مِرے غم میں نہ ہنستی ہوئی آنکھوں کو رُلا

میں تو مر مر کے بھی جی سکتا ہوں میرا کیا ہے

ذرے ذرے میں دھڑکتی ہے کوئی شے جیسے

تِری نظروں نے فضاؤں میں بکھیرا کیا ہے

دردِ دنیا کی تڑپ دل میں مِرے رہنے دے

تُو تو آنکھوں میں بھی رہ سکتی ہے تیرا کیا ہے

تنگ ہے شادؔ مِرے ذوق کی وسعت کے لیے

حلقۂ زلف ہے، آفاق کا گھیرا کیا ہے


نریش کمار شاد

No comments:

Post a Comment