Monday, 22 March 2021

کانٹوں کو چوم لے نہ کوئی اضطراب میں

 کانٹوں کو چوم لے نہ کوئی اضطراب میں

رکھ دی ہے کس نے آپ کی خوشبو گلاب میں

مہکا رہا ہے آج بھی میرے وجود کو

رکھا تھا اک گلاب جو تُو نے کتاب میں

تھا کس کی آستین پہ مقتول کا لہو

لکھا گیا ہے قتل یہ کس کے حساب میں

پھرتا ہوں لاش کاندھوں پہ اپنی لیے ہوئے

صدمے اٹھائے میں نے وہ عہدِ شباب میں

پوچھا طبیب سے جو غمِ عشق کاعلاج

لکھا ہے اس نے 'عشق' مکرر جواب میں

پڑتی ہیں جس طرف یہ گراتی ہیں بجلیاں

رکھیے نگاہیں اپنی خدارا نقاب میں

دستک پہ ان کی رات اچانک میں چونک اٹھا

پوچھا جو میں نے کون وہ بولے، جناب میں

شاید غمِ حیات کی تلخی مٹا سکیں

پینے لگا ہوں اشک ملا کر شراب میں

ہمراہ عشق بھی ہے، غمِ زیست بھی فہیم

میں مبتلا ہوں ان دنوں دہرے عذاب میں


محمد فہیم

No comments:

Post a Comment