Sunday, 14 March 2021

بستر بچھا کے رات وہ کمرے میں سو گیا

بستر بچھا کے رات وہ کمرے میں سو گیا

سبزہ پہ موسموں کا لہو خشک ہو گیا

گمنام دن کی پچھلی قطاروں کا فاصلہ

آواز کی حدوں سے بہت دور ہو گیا

بائیں طرف کے راستے سانسوں میں بٹ گئے

اگلے قدم کی چاپ پہ وہ خون رو گیا

سورج کا ظلم سر کو جھلستا رہا مگر

دن دھوپ کے اتھاہ سمندر کو ڈھو گیا

سڑکوں کی بھیڑ کھا گئی پہچان فرد کی

سوچوں کا شور شکل کی رونق کو رو گیا

ہر گھر کے راستے میں ندی آ کھڑی ہوئی

ہر راستہ نہ جانے کہاں جا کے کھو گیا

ان پانیوں کے بھید کوئی جانتا نہیں

واپس کبھی نہ لوٹ سکا ان میں جو گیا


سید صادق علی

No comments:

Post a Comment