اپنی نظروں سے ہمیں وہ بھی گرا دیتے ہیں
اپنے دل میں جنہیں ہم اونچی جگہ دیتے ہیں
ہاتھ سے ہاتھ ملاتے ہیں بظاہر، لیکن
آزمائش میں وہی ہاتھ دکھا دیتے ہیں
ایسے انگارے اُگلتے ہیں کئی لوگ یہاں
بات کرتے ہوئے تن من کو جلا دیتے ہیں
جن پہ ہم خود سے بھی بڑھ کر ہیں بھروسہ کرتے
اپنی پردوں میں چھپی ذات دکھا دیتے ہیں
دل میں رہ کر بھی فقط رنج دئیے ہیں جس نے
اس کی یادوں کو چلو دل سے مٹا دیتے ہیں
میں سدا جن کا بھرم رکھتی ہوں، بے دید وہ لوگ
پَل میں مجھ کو مِری اوقات جتا دیتے ہیں
انتظار اس کا مقدر میں ہے نسرین، سو ہم
شام ہوتے ہی دِیا دل کا جلا دیتے ہیں
نسرین سید
No comments:
Post a Comment