Sunday, 14 March 2021

مجھے ہو نہ پھر ندامت کہیں عرض حال کر کے

مجھے ہو نہ پھر ندامت کہیں عرضِ حال کر کے

میں خموش رہ گیا ہوں یہی احتمال کر کے

نہ رہے کوئی بھی شکوہ مجھے پھر تِرے کرم کا

جو عطا مجھے ہو ساقی تو ہو یہ خیال کر کے

مجھے آپ نے جو دیکھا تھا وہ اتفاق، لیکن

مِرے دوستوں نے چھیڑا مجھے کیا خیال کر کے

مِری آرزو کو ٹالا، مجھے الجھنوں میں ڈالا

کبھی کچھ سوال کر کے کبھی کچھ سوال کر کے

کوئی غم اگر نہیں ہے تو وہ کیا سبب ہے جس نے

اے امیر! رکھ دیا ہے تجھے خستہ حال کر کے


امیر اعظم قریشی

No comments:

Post a Comment