Sunday, 14 March 2021

اک شہر جس میں رہتے ہوئے مسئلہ نہ ہو

 اک شہر جس میں رہتے ہوئے مسئلہ نہ ہو

اک آدمی کو دوسرے سے مسئلہ نہ ہو

مجھ سے مزاج الگ ہے تِرا سوچ لے ابھی

ادھ راستے میں جا کے تجھے مسئلہ نہ ہو

اتنا نہ ہو قریب کہ الجھن ہو پیار سے

اس درجہ دور رہ کہ مجھے مسئلہ نہ ہو

ہم ساتھ ہیں کہ مانجھی پریشان ہیں مگر

دریا کی بھی تو سنیے اسے مسئلہ نہ ہو

لڑکی چلے گی جیسی بھی ہو ناک نقشے کی

بس اس کو میری شاعری سے مسئلہ نہ ہو


انعام کبیر

No comments:

Post a Comment