اک شہر جس میں رہتے ہوئے مسئلہ نہ ہو
اک آدمی کو دوسرے سے مسئلہ نہ ہو
مجھ سے مزاج الگ ہے تِرا سوچ لے ابھی
ادھ راستے میں جا کے تجھے مسئلہ نہ ہو
اتنا نہ ہو قریب کہ الجھن ہو پیار سے
اس درجہ دور رہ کہ مجھے مسئلہ نہ ہو
ہم ساتھ ہیں کہ مانجھی پریشان ہیں مگر
دریا کی بھی تو سنیے اسے مسئلہ نہ ہو
لڑکی چلے گی جیسی بھی ہو ناک نقشے کی
بس اس کو میری شاعری سے مسئلہ نہ ہو
انعام کبیر
No comments:
Post a Comment