Monday, 21 June 2021

مری یادیں بھلا تم کس طرح دل سے مٹاؤ گے

 مری یادیں بھلا تم کس طرح دل سے مٹاؤ گے

بھلا کر تو ذرا دیکھو مجھے کیسے بھلاؤ گے

محبت کرنے والے درد میں تنہا نہیں ہوتے

جو روٹھو گے کبھی مجھ سے تو اپنا دل دکھاؤ گے

کرو گے یاد تم گزرے زمانوں کی سبھی باتیں

کبھی اِترا کے ہنس دو گے کبھی آنسو بہاؤ گے

گزر جاتے ہیں جو لمحے کبھی واپس نہیں آتے

تو بیتے پل محبت کے کہاں سے لے کے آؤ گے

جدا اپنوں سے ہو کر ٹوٹ جاتا ہے کوئی کیسے

جو بچھڑو گے کبھی مجھ سے تو خود ہی جان جاؤ گے

بڑھا لو گے اگر تم فاصلے مجھ سے کبھی عاز

تو رودادِ دلِ ناشاد پھر کس کو سناؤ گے؟


عازم کوہلی

No comments:

Post a Comment