Wednesday, 9 June 2021

اور ہوا دوں دل میں آگ بھڑکتی کو

 اور ہوا دوں دل میں آگ بھڑکتی کو

شعلہ شعلہ راکھ کرے جو ہستی کو 

دل تھا ایک بگولا ہجر کے صحرا میں 

ناچ رہا تھا لے کر وصل کی مستی کو 

آنکھ کے نخلستان میں ریت بکھرتی ہے 

کون سا رستہ جاتا ہے اس بستی کو 

گاؤں سے جو خواب اٹھا کر نکلا تھا 

شہر میں آ کر بھول گیا پگڈنڈی کو 

میرا دل تو خالی ہے اب دھڑکن سے 

کیسے کوئی دیکھے نبض دھڑکتی کو 


بینا گوئندی 

No comments:

Post a Comment