تم سوچ رہے ہو بس، بادل کی اڑانوں تک
میری تو نگاہیں ہیں سورج کے ٹھکانوں تک
ٹوٹے ہوئے خوابوں کی اک لمبی کہانی ہے
شیشے کی حویلی سے پتھر کے مکانوں تک
دل عام نہیں کرتا احساس کی خوشبو کو
بے کار ہی لائے ہم چاہت کو زبانوں تک
لوبان کا سوندھا پن، چندن کی مہک میں ہے
مندر کا ترنم ہے، مسجد کی اذانوں تک
اک ایسی عدالت ہے، جو راہ پرکھتی ہے
محدود نہیں رہتی وہ صرف بیانوں تک
ہر وقت فضاؤں میں، محسوس کرو گے تم
میں پیار کی خوشبو ہوں، مہکوں گا زمانوں تک
آلوک شریواستو
No comments:
Post a Comment