چاک سے دور مت اچھال مجھے
کوزہ گر! سونپ خد و خال مجھے
تیرے ساتھ اور چل نہیں سکتا
اس مصیبت سے اب نکال مجھے
آ بھی سکتا ہوں تیرے حصے میں
غور سے جانچ، دیکھ بھال مجھے
یار! انکار کی ہے کیا جلدی؟
مسکرا، تھوڑی دیر ٹال مجھے
دل ٹھٹھرتا ہے سرد لہجوں سے
اپنی چاہت کی بھیج شال مجھے
تُو مِری آخری محبت ہے
اپنے سینے سے مت نکال مجھے
ہار جانا تھا لازمی تیرا
سو بدلنا پڑا سوال مجھے
جس کی منزل تِرے سوا ہو کوٸی
ایسے رستے پہ تو نہ ڈال مجھے
بھُولنے کے لیے تجھے ناظر
چاہٸیں چار پانچ سال مجھے
عثمان ناظر
No comments:
Post a Comment