Saturday, 5 June 2021

سرائے شر میں رہنا پڑ رہا ہے

 سرائے شر میں رہنا پڑ رہا ہے

قضا کے ڈر میں رہنا پڑ رہا ہے

ہے میرے قتل کے درپئے خموشی

صدا کے در میں رہنا پڑ رہا ہے

میں خود کو دوسروں میں دیکھتا ہوں

سو چشمِ تر میں رہنا پڑ رہا ہے

خیال و خواب ہیں جس کے معاون

اسے بستر میں رہنا پڑ رہا ہے

میں ہوں جس کا دل و جاں سے مخالف

اسی لشکر میں رہنا پڑ رہا ہے

گزارا فقر پر ہوتا ہے پھر بھی

پناہ زر میں رہنا پڑ رہا ہے

چلا ہے ہجرتوں کا دور جب سے

زمانے بھر میں رہنا پڑ رہا ہے

کوئی تو لاش ہے میرے حوالے

جو مُردہ گھر میں رہنا پڑ رہا ہے

ہوا کے پاؤں تو باہر ہیں راحت

مجھے چادر میں رہنا پڑ رہا ہے


راحت حسن

No comments:

Post a Comment