Sunday, 23 January 2022

خاک کو آگ لکھا شعلہ تقدیر نے پھر

 خاک کو آگ لکھا شعلۂ تقدیر نے پھر

ایک تصویر بنا دی مِری تحریر نے پھر

پھر اسے میرے نشانے پہ ہوا لے آئی

نہ کیا اس کو نشانہ مِری تاخیر نے پھر

پھر اسی جذبۂ سفاک چاہا مجھ کو

دشت کا نام لیا حلقۂ زنجیر نے پھر

ایک آواز نے آباد کیا دشت خیال

ہجر کو وصل کیا دست دعا گیر نے پھر

زینہ دل پہ تِرے بعد نہ اترا کوئی چاند

رات کو دن نہ بنایا رخ تنویر نے پھر

ماتم شہر کو اٹھے بھی نہ تھے ہاتھ ابھی

شہر میں آگ لگا دی کسی تقریر نے پھر

خواب پھر دیکھا کہ وہ ساتھ ہے لیکن ساجد

خواب کو خواب رکھا خواب کی تعبیر نے پھر


ساجد امجد

No comments:

Post a Comment