کر دیا قیس نے لیلیٰ سے تقاضا ہٰذا
نام اب کر دو مِرے خود ہی پلازہ ہٰذا
خواب میں آ کے چڑیلیں اسے سمجھاتی ہیں
مت مَلو اتنا بھی رُخسار پہ غازہ ہٰذا
اس نے پوچھا کہ مجھے گِفٹ میں کیا دو گے تم
تھام کر دل کو میں کہنے لگا ہٰذا ہٰذا
صاحبِ خانہ سے کہنے لگا با ذوق ڈکیت
قبل از ڈاکہ غزل دیکھیۓ تازہ ہٰذا
عزیز فیصل
No comments:
Post a Comment