بھر سکا حرص کا گھڑا نہ کبھی
پیٹ کم ظرف کا بھرا نہ کبھی
جب تلک سایہ ماں کا سر پہ رہا
چُھو سکی گرم بھی ہَوا نہ کبھی
عشق میں شرط ہے وفاداری
کرنا محبوب سے دغا نہ کبھی
لڑتے اوروں سے کٹ گیا جیون
کر سکے خود کا سامنا نہ کبھی
ایسا کھویا ہمارے دل کا قرار
لاکھ کوشش کی پر ملا نہ کبھی
یوں گئے میرے چاہنے والے
ان سے پھر سامنا ہوا نہ کبھی
بھیڑ میں کھو گیا جو دنیا کی
چاہ کر بھی وہ پھر ملا نہ کبھی
لوگ جتنے ملے بھلے ہی ملے
کوئی مجھ کو ملا برا نہ کبھی
جس تعلق میں ہو غرض شامل
ہو گا راحل وہ دیرپا نہ کبھی
علی راحل
No comments:
Post a Comment