Thursday, 10 February 2022

بھر سکا حرص کا گھڑا نہ کبھی

 بھر سکا حرص کا گھڑا نہ کبھی

پیٹ کم ظرف کا بھرا نہ کبھی

جب تلک سایہ ماں کا سر پہ رہا

چُھو سکی گرم بھی ہَوا نہ کبھی

عشق میں شرط ہے وفاداری

کرنا محبوب سے دغا نہ کبھی

لڑتے اوروں سے کٹ گیا جیون

کر سکے خود کا سامنا نہ کبھی

ایسا کھویا ہمارے دل کا قرار

لاکھ کوشش کی پر ملا نہ کبھی

یوں گئے میرے چاہنے والے

ان سے پھر سامنا ہوا نہ کبھی

بھیڑ میں کھو گیا جو دنیا کی

چاہ کر بھی وہ پھر ملا نہ کبھی

لوگ جتنے ملے بھلے ہی ملے

کوئی مجھ کو ملا برا نہ کبھی

جس تعلق میں ہو غرض شامل

ہو گا راحل وہ دیرپا نہ کبھی


علی راحل

No comments:

Post a Comment